سماحۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ مفتی عام مملکت سعودی عرب کے سانحہ ارتحال پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کا تعزیتی پیغام

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے مملکت سعودی عرب کے مفتی عام، رئیس سپریم علماء کونسل، معروف خطیب اور عالم اسلام کی مقتدر اور علمی وتحقیقی شخصیت سماحۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج وغم کا افسوس کیا ہے اور ان کی موت کو عالم اسلام کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔نیز سعودی فرماںروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود،سعودی علماء و حکام وعوام ، خانوادہ آل الشیخ اور پورے عالم اسلام کو قلبی تعزیت پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سادگی ، تواضع اور علمی گہرائی کے لیے مشہور علامہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کے فتویٰ کو سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کا تعلق شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہابؒ کے علمی وفکری خانوادے سے تھا، جو آل الشیخ سے مشہور ہے۔ آپ کی پیدائش ۱۹۴۳ء میں سعودی عرب کے ریاض شہر میں ہوئی ۔ آپ شروع ہی سے نابینا تھے ،ا س کے باوجود آپ بڑے محدث و فقیہ اور خطیب ہوئے۔ آپ ولی عصر علامہ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے علمی وارث تھے۔ اور ان کے زمانہ ہی سے دار الافتاء ریاض میں نائب مفتی کی حیثیت سے ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ آپ نے مفتی عام بننے سے قبل کئی سالوں تک حج کا خطبہ دیا۔ سن ۱۹۹۹ ء میں آپ مفتی عام کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کا انتقال سے مملکت سعودی عرب اور عالم اسلام ایک جلیل القدر اور بابصیرت عالم دین سے محروم ہوگیا۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کی بعض آل انڈیا اہل حدیث کانفرنسوں میں علامہ کے ٹیلی فونک خطاب بھی ہوئے تھے۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث کے دیگر ذمہ داران ، اراکین و کارکنان نے بھی علامہ کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا افسوس کیا ہے اور دعا گوں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو جنت الفردوس کا مکین بنائے اور ملت اسلامیہ خصوصا سعودی عرب کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین
واضح رہے کہ علامہ کے انتقال کے معاً بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے پورے ہندوستان کے ائمہ و متولیان مساجد ، ذمہ داران مدارس و ذیلی جمعیات سے علامہ کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کرنے کی اپیل کی گئی، جس کا الحمد للہ پورے ملک میں اہتمام بھی ہوا۔

 1,960 total views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے