نئی دہلی:14؍اگست 2025ء
79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے جنوبی دہلی کے علاقہ جیت پور میں واقع اقرا انٹرنیشنل اسکول میں جشنِ یومِ آزادی نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔ قومی راجدھانی میں لگاتار ہونے والی بارش کے باوجود طلبہ و طالبات کے والدین، سرپرستوں اور علاقہ کی معزز علمی، سماجی و سیاسی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حاضرین نے طلبہ و طالبات کے پیش کردہ پروگراموں کو دل کھول کر سراہا، اسکول کے ذمہ داران کو دعاؤں سے نوازا اور بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز ساتویں جماعت کی طالبہ روزی دا کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کا اردو ترجمہ آسیہ وسیم اور انگریزی ترجمہ عبدیہ نے پیش کیا۔ بعد ازاں چوتھی جماعت کی طالبہ ام کلثوم نے حدیث پیش کی جس کا اردو ترجمہ الیفہ رفیع اور انگریزی ترجمہ ندا نے پیش کیا۔
اس کے بعد طلبہ و طالبات نے یومِ آزادی کی مناسبت سے متنوع اور فکرانگیز پروگرام پیش کیے۔ یسری زاہدنے ’’وقت کی اہمیت‘‘، رقیہ (جماعت ہشتم) نے ’’آزادی میں مسلمانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر اردو میں خطاب کیا۔ واہبہ زماںنے ’’آزادی میں مسلم خواتین کا کردار پر ہندی میں اور علینہ (جماعت ہفتم)نے’’قومی رواداری‘‘ پر نہایت عمدہ تقریریں کیں۔
حمدان سعید اینڈ گروپ نے ’’جے ہو‘‘ اور عفیفہ اینڈ گروپ نے ’’ہم بھارت سے ہیں‘‘ کے عنوان سے وطن دوستی اور حب الوطنی پر مبنی نغموں پر خوبصورت پرفارمنس پیش کی۔ ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘پر طالبات کے گروپ نے دلکش انداز میں پرفارم کیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ اقصیٰ ملک اور ان کے رفقاء نے معاشرے میں پھیلی برائیوں اور آزادی کے حقیقی مفہوم پر ایک اثرانگیز تمثیلیہ پیش کیا۔ آخر میں’’جن گن من ادھی نایک جئے ہے‘‘ پوری عقیدت و احترام کے ساتھ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسکول کے بانی اور امیر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے حاضرین کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور فرمایا:آج ہم وطن عزیز ہندوستان کا 79واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا۔ آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ انگریزوں نے ہماری آزادی چھینی اور ہمیں محکوم بنایا، جس کے خلاف ہمارے آبا و اجداد نے تحریک مولانا نے مزید فرمایا:ہمارے علما نے سب سے پہلے انگریزوں کے فتنوں کو بھانپا تھا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے سخت مخالف تھے۔ ان کی اولادوں نے وطن کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شاہ عبدالعزیز نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا پہلا فتویٰ دیا اور مولانا اسماعیل شہید دہلوی اور سوا صدی تک علمائے صادق پورنے اپنی جان قربان کر کے اس جدوجہد کو دوام بخشا۔
مولانا نے طلبہ کے پروگراموں کو سراہتے ہوئے کہا:آپ نے نہایت عمدہ پروگرام پیش کیے جو آپ کی محنت کا ثبوت ہیں۔ آپ مستقبل کے معمارِ قوم ہیں۔ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے بہتر کاموں میں استعمال کریں۔ اگر آپ وقت کی قدر کریں گے تو یقیناً وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے، امن پسند شہری بنیں گے اور ملک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مولانا نے مزید کہا:اگرچہ ہم آزاد ہیں، لیکن غلامی کی کئی شکلیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہر شخص دوسرے کے مال، عزت اور حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک ملک دوسرے ملک کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگا ہے۔ ایسی خصلت کبھی بھی انسان اور معاشرے کے لیے مفید نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اپنے اندر قوتِ برداشت اور انسانیت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دنیا میں امن و سکون قائم ہوسکے۔
اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے حاضرین، مہمانانِ گرامی، طلبہ و اساتذہ کو یومِ آزادی کی پرخلوص مبارکباد پیش کی اور کہا:طلبہ کے پیش کردہ پروگرام بے حد معنی خیز اور مؤثر تھے۔ بلاشبہ وطن عزیز کی آزادی ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے خونِ جگر سے اس دھرتی کو سینچا اور اسے امن و سکون کا گہوارہ بنایا۔ آج ہم انہی قربانیوں کو یاد کرنے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے یہاں یکجا ہیں۔ہمیں ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ ادا کرنا چاہئےاور اتفاق و اتحاد اور قومی ہمدردی سے سرشار ہوکرآزادی کی قدر کرنی چاہئے۔
مولانا نے مزید کہا:اقرا انٹرنیشنل اسکول کے طلبہ نے اپنے پروگراموں کے ذریعے جو پیغامات دیے ہیں، اگر ہم انہیں اپنی زندگیوں میں اپنالیں تو یقیناً ہم اپنے دین کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے بھی مفید شہری بنیں گے۔ ہر مذہب وطن سے محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا یومِ آزادی کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ وطن کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں عملی کردار ادا کرسکیں۔
اس پروگرام میں شریک اہم شخصیات میں سعیدالرحمن سنابلی، ربیع اللہ سلفی، محمد نسیم فیضی، عبدالرحمن ثاقبی، سیف دیوگھری، عبدالواحد میرٹھی، قاری امروز، عبداللہ سلفی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
2,546 total views

