صوبہ بہار کے ضلع مغربی چمپارن میں واقع معروف دینی و تربیتی ادارہ جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ میں 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جشنِ آزادی کی ایک شاندار، پروقار اور بامقصد تقریب نہایت جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب میں جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ اور کلیہ عائشہ صدیقہ الاسلامیہ للبنات کے طلبہ و طالبات نے مختلف تعلیمی، ثقافتی اور بامقصد پروگرام پیش کرتے ہوئے حب الوطنی، قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کے جذبات کا خوبصورت اظہار کیا۔ تقریب میں قریہ برندابن اور قرب و جوار سے تعلق رکھنے والی متعدد دینی، علمی، سماجی اور سیاسی شخصیات، معززینِ علاقہ، اساتذہ، سرپرستان اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز تقریبِ پرچم کشائی سے ہوا۔مولوی سمیع اللہ اسلامی نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر گلستارہ مقصود عالم اور ان کی سہیلیوں نے قومی ترانہ جن گن من ادھی نایک جئے ہےنہایت جوش و جذبے، عقیدت اور حب الوطنی کے احساس کے ساتھ پیش کیا۔ بعد ازاں شائستہ جہاں اور ان کی رفقاء نے مترنم اور دل نشیں انداز میں ہندی ترانہ پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا اور طالبات کی خوب حوصلہ افزائی کی۔
پرچم کشائی کے بعد جامعہ اور کلیہ کے طلبہ و طالبات نے مختلف زبانوں میں متنوع، مفید اور معنی خیز پروگرام پیش کیے۔ روبینہ پروین، تمنا پروین، رضیہ پروین اور گلفشاں پروین نے ہندی زبان میں، جبکہ تمنا پروین اور ام کلثوم نے انگریزی زبان میں تقاریر پیش کیں۔ اسی طرح رضیہ پروین، شاہین پروین، روبن تارہ، شاذیہ پروین، ماریہ، منتشاء، ام حبیبہ، سعدیہ، سیرت وغیرہ نے اردو زبان میں نہایت مفید اور معلوماتی تقاریر پیش کیں۔ ان تقاریر میں ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی، انگریز سامراج کے خلاف برادرانِ وطن کی جدوجہد، مجاہدینِ آزادی کی بے مثال قربانیوں، آزادی کی اہمیت و قدر، وطنِ عزیز سے محبت اور تحریکِ شہیدین و علمائے صادق پور کی تاریخ ساز خدمات کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا۔جامعہ کے طلبہ شاہد اختر، افسر عالم، صدر عالم، سرفراز انصاری، افضل حسین، ذیشان انصاری، ساحل انصاری، اعظم انصاری اور شمشاد عالم نے بھی عربی، انگریزی، اردو اور ہندی زبانوں میں مختلف مفید پروگرام پیش کیے۔ طلبہ و طالبات نے اپنی تقاریر کے ذریعے آزادی کے حصول کے لیے پیش کی گئی قربانیوں کو یاد کیا اور وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی، امن و سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
تقریب میں متعدد مکالمے اور تمثیلیے بھی پیش کیے گئے جنہیں جامعہ اور کلیہ کے ہونہار طلبہ و طالبات نے نہایت عمدگی سے پیش کیا۔ ان پروگراموں میں قومی یکجہتی، حب الوطنی، آزادی کی قدر و اہمیت اور وطن کے تئیں ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ حاضرین نے طلبہ و طالبات کی عمدہ پیشکشوں کو بے حد سراہا، ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ادارے کے ذمہ داران، بالخصوص اس کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور صدر مولانا محمد اظہر مدنی کے لیے نیک دعائیں کیں۔
تقریب سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے ادارے کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے تمام اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم آزاد ملک کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہمارا وطن غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس وقت بلا تفریقِ مذہب و ملت تمام اہلِ وطن آزادی کے حصول کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی جان، مال اور دیگر تمام وسائل قربان کردیے۔ بے شمار لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، تب جاکر ہمیں آزادی کی یہ عظیم نعمت حاصل ہوئی۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ قومی تہواروں کو ہمیشہ نہایت جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ مناتا ہے۔ ادارے کے تمام شعبہ جات میں جشنِ آزادی کے پروگراموں کا انعقاد اسی مقصد سے کیا جاتا ہے کہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں اور جدوجہدِ آزادی کی تاریخ سے واقف کرایا جائے۔ ہمارے اسلاف نے وطن کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کیا؛ ہم انہی کی اولاد ہیں، اس لیے ہمیں ان کی قربانیوں سے سبق لیتے ہوئے وطنِ عزیز کی مضبوط تعمیر و ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے، تاکہ ہمارے اسلاف نے جس ترقی یافتہ، خوش حال اور مضبوط ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، وہ شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔آپ نے جھمکا کے علمائے کرام اور برندابن و چاندبرواں کے معروف مجاہدینِ آزادی گلاب شیخ اورشیخ بخشش کریم کی انگریزوں کے خلاف جرأت مندانہ جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے صدر مولانا محمد اظہر مدنی نے بھی ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے تمام اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کا 80واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ یہ آزادی ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم بہتر اور ذمہ دار شہری بنیں اور وطن کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ہمارا وطن مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہے اور آزادی کے حقیقی ثمرات ہر شہری تک پہنچیں۔
مولانا محمد اظہر مدنی نے مزید کہا کہ آزادی ایک دولتِ بے بہا ہے اور اگر ہم اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کرتے تو ہم اپنے شہری فرائض کی ادائیگی میں بھی کوتاہی کرتے ہیں۔ ہمیں آزادی کے معنی و مفہوم کو سمجھنا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی مسلسل کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہمارے ملک میں امن و شانتی کا دور دورہ ہو، ہم باہمی محبت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور ہر قسم کے انتشار و اختلاف سے محفوظ رہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے اندر ایک دوسرے کے احترام، رواداری، خیر خواہی اور باہمی تعاون کے جذبات پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں ملک کے قوانین کی پاسداری، وطن کی سلامتی، قومی یکجہتی اور تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آزادی کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے ملک کو امن، خوش حالی اور ترقی کی راہ پر آگے لے جانے میں اپنی بساط بھر کوشش کریں۔اپنی نئی نسل، خصوصاً اپنے بچوں کے دلوں میں آزادی کی خاطر دی گئی قربانیوں کی قدر و قیمت اور اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان تک اس ورثے کو منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ نہ صرف بہترین شہری بنیں بلکہ ملک و ملت کے مخلص خادم اور وطن کے جاں نثار سپوت بھی ثابت ہوں۔اس موقع پر صدر المدرسین مولانا نجم الحق ندوی نے قریہ برندابن اور قرب و جوار سے تشریف لانے والے تمام مہمانانِ گرامی، معززینِ علاقہ اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یومِ آزادی کی پرخلوص مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ ہمیشہ سے قومی تہواروں کو حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبے کے ساتھ مناتا آیا ہے۔ اس طرح کے پروگرام نئی نسل کو ملک کی تاریخ، آزادی کی جدوجہد اور اسلاف کی قربانیوں سے واقف کرانے کے ساتھ انہیں ایک ذمہ دار شہری بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں عبدالسلام، مطیع الرحمن، مولانا سمیع اللہ، مولانا شمس الحق، ظہیر عالم جھمکاوی، مولوی شبیر عالم، ربیع اللہ سلفی، علی حسین، حفظ اللہ، فیاض عالم، پریم شاہ، صدر عالم، ماسٹر داؤد حسین، فاروق احمد، بسم اللہ، عارف، نعمان، ثناء اللہ عرف ڈیلر، کرم اللہ وغیرہم قابلِ ذکر ہیں۔یومِ آزادی کی یہ تقریب مجموعی طور پر حب الوطنی، قومی یکجہتی، اسلاف کی قربانیوں کی یاد، آزادی کی قدر و حفاظت اور وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی کے عزم کا خوبصورت مظہر رہی۔ حاضرین نے جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں اور طلبہ و طالبات کی بامقصد پیشکشوں کو سراہتے ہوئے ادارے کے ذمہ داران اور اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
120 total views

