مثالی مملکت کے بے مثال کارنامے

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی
امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
حمد و ثنا اس ذاتِ پاک کے لیے سزاوار ہے جس نے بیت اللہ شریف، خانۂ کعبہ کو روئے زمین کا سب سے مقدس مقام بنایا، اسے مرکزِ توحید، قبلۂ اہلِ ایمان اور دلوں کی دھڑکن قرار دیا، پھر اپنے خاص فضل و کرم سے ایسے خوش نصیب بندوں کو اس کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی جنہیں اس عظیم امانت کی نگہبانی اور اس کے زائرین کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایت ہے کہ اس نے مملکتِ سعودی عرب کو حرمین شریفین کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا اور اس کے فرمانرواؤں کو یہ سعادت بخشی کہ وہ اپنے لیے بادشاہت اور اقتدار کے تمام القاب سے بڑھ کر ’’خادم الحرمین الشريفين‘‘ کا لقب پسند کریں۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے اس مملکت کو عالمِ اسلام میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے اور یہی وہ خدمت ہے جس کے باعث دنیا بھر کے مسلمان ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کی کامیابی و سربلندی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں۔


یوں تو مملکتِ سعودی عرب دینِ اسلام کی خدمت، دعوت و ارشاد، تعلیم و تربیت، رفاہی منصوبوں، انسانی امداد، اغاثی سرگرمیوں، امن و استحکام اور عالمی سطح پر خیر خواہی کے بے شمار کارناموں کے لیے معروف ہے، لیکن حجاجِ بیت اللہ اور زائرینِ حرمین شریفین کی خدمت کے باب میں جو امتیاز اسے حاصل ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہر سال لاکھوں بلکہ بعض اوقات کروڑوں انسان دنیا کے مختلف گوشوں سے اس مقدس سرزمین کا رخ کرتے ہیں اور ان سب کے لیے رہائش، خوراک، پانی، نقل و حمل، صحت، سلامتی اور عبادت کے سازگار ماحول کا انتظام کرنا ایک ایسا عظیم کارنامہ ہے جس کا تصور بھی عام انسانی عقل کے لیے آسان نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق، اخلاصِ نیت اور مسلسل منصوبہ بندی کے نتیجے میں مملکتِ سعودی عرب اس فریضے کو جس حسن و خوبی اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتی ہے وہ بجا طور پر قابلِ ستائش ہے۔
امسال حج 1447ھ / 2026ء کے موقع پر مملکت نے جن غیر معمولی انتظامات، جدید سہولیات اور نئی ایجادات کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ حج 2026ء انتظامی مہارت، تکنیکی ترقی، انسانی خدمت اور دینی جذبے کا ایک ایسا حسین امتزاج تھا جس کی مثال عصرِ حاضر میں مشکل سے مل سکتی ہے۔ مملکت کے ذمہ داران بارہا یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ جس دن ایک حج ختم ہوتا ہے اسی دن سے اگلے حج کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ وزارتِ حج و عمرہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ صحت،وزارت برائے دینی امور، حرمین شریفین کے انتظامی ادارے، سکیورٹی فورسز، بلدیاتی محکمے، مواصلاتی ادارے، انجینئرنگ شعبے اور ہزاروں ماہرین سال بھر اسی فکر میں مصروف رہتے ہیں کہ اگلے سال حج کو مزید بہتر، محفوظ، آرام دہ اور مثالی بنایا جائے۔ گویا ان کی سوچ، ان کی منصوبہ بندی اور ان کی شبانہ روز محنت کا محور و مرکز صرف یہی ہوتا ہے کہ مہمانانِ رحمان کو کس طرح زیادہ سے زیادہ سہولت، راحت اور اطمینان فراہم کیا جائے۔
اس سال حج کے انتظامات میں جدید ٹیکنالوجی کو جس انداز سے بروئے کار لایا گیا وہ قابلِ توجہ اور قابلِ تقلید ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، اسمارٹ نگرانی، جدید ڈیجیٹل نظام، ہجوم کے خودکار تجزیاتی پروگرام، ہزاروں جدید کیمروں اور سینسرز پر مشتمل نگرانی کے نظام، بائیومیٹرک شناختی سہولیات اور نسک کارڈ کے جامع استعمال نے انتظامی امور کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ حجاج کی نقل و حرکت، ان کی رہنمائی، ہجوم کے دباؤ کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری کارروائی کے لیے ایسے جدید ذرائع استعمال کیے گئے جنہوں نے حج کے انتظامی معیار کو مزید مستحکم اور مؤثر بنا دیا۔
نسک کارڈ نے اس سال بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کارڈ کے ذریعے ہر حاجی کی شناخت، رہائش، آمد و رفت، طبی معلومات اور مختلف خدمات تک رسائی کو آسان بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف حجاج کو سہولت حاصل ہوئی بلکہ انتظامیہ کو بھی لاکھوں افراد کے نظم و نسق میں غیر معمولی مدد ملی۔ اسی طرح مختلف زبانوں میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولتیں مہیا کی گئیں تاکہ دنیا کے ہر خطے سے آنے والا حاجی آسانی کے ساتھ اپنی ضروری معلومات حاصل کرسکے۔
حج 2026ء شدید گرمی کے موسم میں ادا کیا گیا، لیکن مملکت نے حجاج کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لیے جو اقدامات کیے وہ واقعی قابلِ تحسین ہیں۔ مشاعرِ مقدسہ، منیٰ، عرفات اور جمرات کے اطراف وسیع سایہ دار مقامات، جدید ٹھنڈک فراہم کرنے والے نظام، پانی کی پھوار چھوڑنے والے آلات، مسلسل ٹھنڈے پانی کی فراہمی، ہزاروں اضافی واٹر پوائنٹس، اور پیدل چلنے والوں کے لیے آرام دہ راستوں کا انتظام کیا گیا۔ جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کی سبیلیں، آرام گاہیں اور طبی مراکز قائم کیے گئے تاکہ کوئی حاجی گرمی کی شدت سے متاثر نہ ہو۔ اس سال بعض مقامات پر جدید تکنیکی ذرائع کے ذریعے ماحول کو معتدل بنانے کی کوششوں نے بھی لوگوں کو حیران کیا اور حجاج نے ان سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
سعودی سکیورٹی اہلکاروں، فوجیوں، رضاکاروں، طبی عملے اور خدمت گزاروں کا کردار ہمیشہ کی طرح قابلِ رشک رہا۔ سخت دھوپ، شدید گرمی اور مسلسل ڈیوٹی کے باوجود وہ حجاج کی خدمت میں مصروف رہے۔ کئی مقامات پر یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ اہلکار خود گرمی کی شدت برداشت کرتے رہے لیکن حجاج کو پانی فراہم کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ خدمت صرف ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی جذبہ اور روحانی فریضہ محسوس ہوتی ہے۔
طبی میدان میں بھی اس سال غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ جدید اسپتالوں، موبائل کلینکس، ایمبولینس سروسز، فضائی طبی امداد، روبوٹک سہولیات اور جدید تشخیصی نظاموں کے ذریعے لاکھوں حجاج کو فوری اور معیاری طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے اور ماہر ڈاکٹروں کی بڑی تعداد ہر وقت مستعد رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے اجتماع کے باوجود طبی خدمات کا نظام انتہائی مؤثر انداز میں کام کرتا رہا۔
نقل و حمل کے شعبے میں بھی حیرت انگیز انتظامات دیکھنے میں آئے۔ حرمین ٹرین، مشاعر ٹرین، جدید بسوں کے وسیع نیٹ ورک، اسمارٹ ٹریفک نظام اور ہزاروں اہلکاروں کی مسلسل نگرانی نے لاکھوں حجاج کی آمد و رفت کو منظم رکھا۔ محدود وقت اور محدود جگہ میں لاکھوں انسانوں کی مسلسل نقل و حرکت کو اس نظم و ضبط کے ساتھ برقرار رکھنا بلاشبہ ایک عظیم انتظامی کارنامہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان غیر جانب داری کے ساتھ حج 2026ء کے انتظامات کا جائزہ لے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ صرف وسائل کا کمال نہیں بلکہ عزم، اخلاص، مسلسل منصوبہ بندی اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق کا نتیجہ ہے۔ اس وادیِ غیر ذی زرع میں جہاں کبھی پانی اور بنیادی ضروریات کا تصور بھی دشوار تھا، آج دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں انسانوں کے لیے اعلیٰ ترین معیار کی سہولیات فراہم کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور زبان بے اختیار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگتی ہے۔
سچ کہا گیا ہے
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، اس کے حکمرانوں، خادم الحرمین الشريفين، ولی عہد امین، علماء، ذمہ داران، سکیورٹی اہلکاروں، ڈاکٹروں، انجینئروں، رضاکاروں اور تمام خدمت گزاروں کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید اخلاص، توفیق، حکمت اور خدمتِ دین کی قوت عطا فرمائے۔ حرمین شریفین کی حفاظت و خدمت کا یہ مبارک سلسلہ قیامت تک جاری رکھے، اس مملکت کو ہر قسم کے شر، فتنہ، حسد، سازش اور دشمنی سے محفوظ رکھے، اور اسے عالمِ اسلام کے لیے امن، اخوت، استحکام اور خیر کا مرکز بنائے رکھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے اثرات کو ہمیشہ قائم رکھے کہ لوگوں کے دل اس سرزمین کی طرف کھنچے چلے آئیں، اور یہ مبارک خطہ ہمیشہ ایمان، محبت، امن اور خدمتِ اسلام کا روشن مینار بنا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔

 88 total views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے