آزادی عظیم نعمت ہے، اس کی قدر و حفاظت ہم سب کا فریضہ: مولانا محمد اظہر مدنی

’’آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور امانت بھی، جس کے حصول کے لیے ہمارے آباء و اجداد نے انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی اور بے مثال جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔ آج ہم انہی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور آزادی کی نعمت کی قدر و حفاظت کے عزم کی تجدید کے لیے یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اگر کبھی وطنِ عزیز ہندوستان کو ہماری ضرورت پیش آئی تو ہم اپنے اسلافِ کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وطن کے دفاع اور اس کی سربلندی کے لیے ہر ممکن قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ان خیالات کا اظہار مولانا محمد اظہر مدنی نے معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے زیر اہتمام منعقدہ جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا محمد اظہر مدنی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز ہندوستان ہماری امیدوں کا محور، ہماری امنگوں کا مرکز اور ہماری جائے پیدائش ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، تاہم موجودہ دور میں اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم وطن کی تعمیر و ترقی، امن و شانتی کے تحفظ، صفائی و ستھرائی اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے طلبۂ معہد کی جانب سے پیش کیے گئے شاندار اور متنوع پروگراموں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں مزید محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ اپنی تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی تلقین کی۔اس سے قبل معہد کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے آزادی کی اہمیت و قدر و قیمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غلامی انسان کے لیے بدترین حالت ہے، اسی لیے ہمارے آباء و اجداد نے آزادی کے حصول کے لیے عظیم تحریکیں برپا کیں اور بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے طلبہ و اساتذہ کو شاندار اور بامقصد پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ آج کے دور میں آزادی کی قدر و اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف کی ان عظیم خدمات اور قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو انہوں نے وطن کی آزادی کے لیے پیش کیں۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمیں وطنِ عزیز کو امن، خوش حالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مذہبی رواداری، باہمی احترام اور برداشت کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔آزادی کا مطلب اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کی قدر کریں، اسے ایک امانت سمجھیں، ملکی قوانین کی پاسداری کریں، وطن کے ساتھ وفاداری نبھائیں، خدمتِ وطن اور خدمتِ اہلِ وطن کو اپنا مشن بنائیں، اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں علماءِ کرام اور مدارسِ دینیہ کی خدمات و قربانیوں کی قدر کریں۔ یہی ایک ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عطاء الرحمن قاسمی، صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے کہا کہ تحریکِ آزادیِ ہند میں مدارس اور اہلِ مدارس کی خدمات ناقابلِ فراموش اور تاریخ ساز ہیں۔ مدارس کے ان بوریہ نشین علماء و طلبہ نے دیگر برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی اور وطن کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج ہم انہی مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اور مہاتما گاندھی کے مابین ہونے والے ایک تاریخی مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہلِ مدارس کی تعلیم کا مقصد محض ڈگری یا دنیاوی منفعت کا حصول نہیں، بلکہ دین کی حفاظت، انسانیت کی خدمت اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے کامیاب اور بامقصد پروگرام کے انعقاد پر مولانا محمد اظہر مدنی اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر مولانا عبدالاحد مدنی، استاذ جامعہ ریاض العلوم، دہلی و المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ نے کہا کہ تحریکِ آزادیِ ہند میں علمائے اہلِ حدیث کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ہمارے طلبہ نے اپنے پروگراموں کے ذریعے ان عظیم خدمات کو یاد کیا اور اپنے اسلاف کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ادارے میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی فکری و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔** انہوں نے طلبہ کی عمدہ پیشکشوں کو سراہا اور ادارے کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ تقریب کا آغاز ندیم اختر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں آزادی اور مجاہدینِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے پر مشتمل منظوم کلام عبدالوسیم نے پیش کیا۔ محمد عارف اور ان کے رفقاء نے مترنم اور دل نشیں انداز میں ہندی ترانہ پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ طلبہ نے اردو، انگریزی، ہندی اور عربی زبانوں میں نہایت مفید اور معنی خیز تقاریر پیش کیں۔ جماعت اول کے طالب محمد شاہنواز نے اردو، جماعت ثانیہ کے طالب محمد جنید نے انگریزی، محمد افضل شبیر عالم نے ہندی اور محمد ایان نے عربی زبان میں خطاب کیا۔ اپنی تقاریر میں طلبہ نے وطنِ عزیز کی آزادی کے لیے آباء و اجداد کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے، جس کی قدر کرنا اور وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، کیونکہ آج کے طلبہ ہی کل کے معمارانِ وطن ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد طلبہ نے حب الوطنی اور قومی یکجہتی پر مشتمل مختلف بامقصد اور دل نشیں پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بغور سنا اور خوب سراہا۔ شرکائے مجلس نے معہد کی تعلیمی و تربیتی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے ادارے کے ذمہ داران اور اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جشنِ آزادی کی اس تقریب میں مولانا محمد احمد سنابلی، مولانا شفیق الرحمن سلفی، مولانا عبدالمؤمن سنابلی، مولانا محمد بن خورشید مدنی، انجینئر شاہنواز، عبداللہ سلفی، وسیم ریاضی، نسیم فیضی اور اسداللہ فیضی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر 15 اگست کی خوشی کے موقع پر طلبہ، مہمانانِ گرامی اور دیگر شرکائے مجلس کے مابین شیرینی تقسیم کی گئی۔ حاضرین نے معہد کے اس بامقصد پروگرام کو سراہتے ہوئے ملک میں امن، خوش حالی اور ترقی کے لیے دعائیں کیں۔

 134 total views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے