ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے اقرا انٹرنیشنل اسکول میں پرچم کشائی کی تقریب، طلبہ و طالبات نے پیش کیے متنوع اور بامقصد ثقافتی پروگرامجنوبی دہلی میں واقع عصری تعلیمی و تربیتی ادارہ اقرا انٹرنیشنل اسکول میں ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر نہایت شاندار اور بامقصد تقریبِ پرچم کشائی اور جشنِ آزادی کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں علاقے کی متعدد دینی، علمی، سماجی اور سیاسی شخصیات کے علاوہ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین و سرپرستان نے شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی کے ہاتھوں قومی پرچم ترنگا لہرایا گیا۔ اس موقع پر کلاس ہفتم کی طالبات نے قومی ترانہ جن گن من نہایت جوش و جذبے اور حب الوطنی کے احساس کے ساتھ پیش کیا۔بعد ازاں طلبہ و طالبات کے متنوع ثقافتی پروگراموں کا آغاز ہوا، جس کی ابتدا عائشہ عبدالرحمن اور ان کے رفقاء کی تلاوتِ کلامِ پاک اور اس کے اردو و انگریزی ترجمے سے ہوئی۔ آسیہ وسیم اور ان کی سہیلیوں نے حدیثِ نبوی ﷺ اور اس کا اردو و انگریزی ترجمہ پیش کیا۔اس کے بعد طلبہ و طالبات نے اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبانوں میں مختلف موضوعات پر مفید اور معنی خیز تقاریر پیش کیں۔ علینہ ساحل (کلاس نہم)، قدسیہ (کلاس ہشتم)، رباب (کلاس دوم)، حماد نسیم (کلاس سوم)، احمد وسیم (کلاس چہارم)،یوشع احمد(کلاس چہارم)، رقیہ عبدالرحمن (کلاس ہشتم)، زینب شفیق الرحمن(کلاس دوم) اور دیگر طلبہ و طالبات نے اپنی شاندار پیشکشوں سے حاضرین کو متاثر کیا۔ حمدان سعید اور ان کے ساتھیوں نے جنک فوڈ اور صحت بخش غذا کے موضوع پر ایک خوبصورت تمثیلیہ پیش کیا، جس کے ذریعے بچوں اور ان کے والدین و سرپرستان کو صحت بخش غذا کے استعمال کی ترغیب دی گئی اور جنک فوڈ کے مضر اثرات سے آگاہ کیا گیا۔ طلبہ نے مؤثر انداز میں یہ پیغام دیا کہ صحت بخش غذا صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، جب کہ جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سمیہ ارشاد (کلاس پنجم) اور ان کی سہیلیوں نے ’’ڈرگس: ایک سماجی ناسور‘‘ کے عنوان سے تمثیلیہ پیش کیا، جس میں معاشرے میں پھیلتے ہوئے منشیات کے عفریت سے بچنے اور نوجوان نسل کو اس سے محفوظ رکھنے کا پیغام دیا گیا۔ صفائی و ستھرائی کی اہمیت اجاگر کرنے والے متعدد مکالمے بھی پیش کیے گئے۔کلاس اول کے طلبہ و طالبات نے مجاہدینِ آزادی کے کردار پر مبنی مکالمے نہایت مؤثر انداز میں پیش کیے، جب کہ مختلف گروپس نے دیش بھکتی اور حب الوطنی پر مبنی متنوع نغموں پر خوبصورت پرفارمنس پیش کرکے حاضرین سے خوب دادِ تحسین حاصل کی۔ دیگر پروگراموں میں بھی آزادی کی اہمیت، اس کے تقاضوں اور مجاہدینِ آزادی کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اسکول کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کا 80واں یومِ آزادی منا رہے ہیں اور ہمیں قومی تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، جس کے حصول کے لیے ہمارے اسلاف نے غلامی کے خلاف طویل جدوجہد کی اور بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ اس نعمت کی قدر کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی قدر کا حقیقی مفہوم صرف جشن منانا نہیں، بلکہ وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور ایسا عمل و کردار اختیار کرنا ہے جس سے ہمارا وطن ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ ہمیں ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہیے جو ملک کی ترقی اور خوش حالی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو۔ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے مزید کہا کہ یومِ آزادی ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آزادی کے تقاضوں کو سمجھیں گے اور کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جو اس کی روح اور حقیقی مفہوم کے منافی ہو۔ ہم اپنے برادرانِ وطن کے ساتھ خیرسگالی اور حسنِ سلوک کا معاملہ رکھیں گے، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں گے، وطن کے قدرتی وسائل کی حفاظت کریں گے اور ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین و سرپرستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرنے اور آزادی کی نعمت کی قدر کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمارے اسلاف نے وطن کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کیں؛ ان کی جدوجہد اور ایثار ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، اس لیے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور ایک بہتر شہری بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک ذمہ دار شہری بننے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا، وطن کے قوانین سے واقفیت رکھنا، باہمی عزت و احترام اور مذہبی رواداری کو فروغ دینا اور ہر قسم کے تشدد و انتہا پسندی سے دور رہنا ضروری ہے۔ مولانا محمد اظہر مدنی نے مزید کہا کہ یومِ آزادی ہمیں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم ہندوستان کی ترقی و خوش حالی کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کریں گے اور انفرادی طور پر جو مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں، اسے ضرور ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستانی ہیں اور وطنِ عزیز سے محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ہم بہتر شہری بنیں، ملکی قوانین کی پاسداری کریں، دوسروں کے لیے مفید ثابت ہوں، کسی کو اذیت و تکلیف نہ پہنچائیں اور وطن کے امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے حتی المقدور کوشش کریں۔ وطن سے محبت کو کردار بنائیں اور تعمیر و ترقی کو شعار بنائیں؛ یہی ایک کامیاب اور ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالاحد مدنی نے کہا کہ وطنِ عزیز ہندوستان سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور وطن سے محبت اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں۔ اسلام نے محبتِ وطن کے ساتھ ذمہ داری، وفاداری، خیر خواہی اور حسنِ کردار کے اصول بھی متعین کیے ہیں۔ ہمیں اپنے وطن کے تئیں محبت، اخلاص اور خیر خواہی کے جذبے کو مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج طلبہ و طالبات نے اپنے بامقصد اور مفید پروگراموں کے ذریعے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ ہمیں ایک ذمہ دار شہری بننا اور وطن کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور انہیں ادا کرنا چاہیے، تاکہ ہمارا ملک امن و سکون، خوش حالی اور ترقی کا گہوارہ بن سکے۔ تقریب میں پیش کیے گئے طلبہ و طالبات کے پروگراموں کو حاضرین نے خوب سراہا اور اسکول کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے اپنے پروگراموں کے ذریعے آزادی کی اہمیت، اسلاف کی قربانیوں، حب الوطنی، قومی یکجہتی، صحت مند طرزِ زندگی، منشیات سے اجتناب اور صفائی و ستھرائی جیسے اہم موضوعات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر تمام مہمانانِ گرامی، والدین و سرپرستان اور طلبہ و طالبات نے اسکول کی اس بامقصد کاوش کو سراہتے ہوئے ادارے کے ذمہ داران اور اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر جن اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں ارشاد ریاضی، نسیم فیضی، وسیم ریاضی، ذبیح اللہ ریاضی، عبدالمومن سنابلی، علاء الدین انصاری، اسداللہ ریاضی، محمد احمد سنابلی وغیرہم اہم اور قابل ذکر ہیں۔
616 total views

