آزادی ایک نعمت ہے،اس کی قدر کریں اور ایک امانت ہے اس کی حفاظت کریں:مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اعلیٰ تعلیمی وتحقیقی ادارہ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ، ابوالفضل انکلیو ،نئی دہلی میں پروقار تقریب یوم آزادی کا انعقاد
تمام دیش واسیوں کو یوم آزادی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔آزادی ایک عظیم نعمت ہے،اس کی قدر کریں اور ایک بڑی امانت ہے، اس کی حفاظ کریں۔ یہ آزادی ہمیں ہمارے اسلاف کی بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ صرف دہلی میں ہزاروں علماء کرام کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا گیااور ہزاروں کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔قید وبند کی سزائیں دی گئیں۔جدوجہد آزادی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒکی مساعی اور ان کی اولاد واحفادپھرٹیپو سلطان،نواب سراج الدولہ شہیدان بالاکوٹ ،اسکندرعزم شاہ محمد اسماعیل شہید اور سید احمد شہید ؒکی شہادت اور،فرائضی تحریک کے میر نثارعلی عرف تیتو میاں ،حاجی شریعت اللہ اور ان کے فرزند حافظ محمد محسن عرف دودو میاں کے ایثار وقربانی سے شروع ہوکر ۱۹۴۷ تک محیط ہے۔۱۸۵۷ء کا انقلاب جہدوجہد آزادی کی پہلی مسلح جدوجہد نہیں بلکہ اس سے پہلے سینکڑوں مسلح جنگیں لڑی گئیں،تب جاکر یہ ملک آزاد ہوا۔ اس میں بلاتفریق مذہب کسی نہ کسی طرح سے سارے ہندوستانیوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ،امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا۔آپ کل مورخہ۱۵؍اگست۲۰۲۶ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اعلیٰ تعلیمی وتحقیقی ادارہ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ، ابوالفضل انکلیو ،نئی دہلی میں منعقدہ باوقار تقریب یوم آزادی میں پرچم کشائی کے حاضرین سے خطاب کررہے تھے۔
مولانا سلفی صاحب نے مزید کہا کہ جدوجہد آزادی میں تحریک شہیدین کے تربیت یافتہ خلفاء صادقان صادق پورخصوصاً مولاناولایت علی اور مولانا عنایت علی وغیرہ نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور تن من دھن کی بازی لگادی،جس کا اعتراف ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بایں الفاظ کیا تھا کہ اگر سارے ہندوستانیوں کی قربانیوں کو ترازو کے ایک پلڑا میں رکھا جائے اور صرف صادقان صادق پور (اہل حدیثوں) کی قربانیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اہل صادق پور کی قربانیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔
امیر محترم نے اپنا خطاب شروع کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد آزادی کے حوالے سے ہمارے درد نہاں کو وہی سمجھ سکتا ہے جو ہمارے اسلاف کی قربانیوں سے واقف ہوگا۔نئی نسل کو اسلاف کی قربانیوں کے سلسلے میں بتانا اور پڑھانا ضروری ہے تاکہ وہ آزادی کی نعمت کا صحیح طور پر ادراک کرسکیں ۔ ملک وملت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اوراس کے تقاضوں کو پورا کریں اورملک کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کریں۔
امیر محترم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آزادی کا جشن منانا بسا غنیمت ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے اندربہت سی ایسی چیزیں بھی درآئی ہیں جو آزادی کی روح کے سراسر منافی ہیں۔ہمارے اسلاف آزادی اس وقت حاصل کرسکے جب وہ مختلف رنگ ونسل،ذات پات اور مذہب ومسلک کے باوجودآپس میں متحد ومتفق اورقومی یکجہتی وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے سے سرشارتھے۔آج بھی اسی جذبے کو فروغ دینے ضرورت ہے اور اسی صورت میں نعمت آزادی کا تحفظ بھی ممکن ہے۔دیش ہمارا ہے اورہمارے اسلاف اور آباواجداد نے آزادی کے بعد اس کو اپنے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہے اور اسے روایتی امن وشانتی اور گنگا جمنی تہذیب کے سائے میں ہم تک اس امانت کو منتقل کیا ہے، جس کا پاس ولحاظ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں وقت کی بڑی ضرورت ہے۔یاد رکھیں کہ جب ہم وطن عزیز کیلئے ہوں گے تب یہ ہی وطن ہمارے لئے ہوگا اور اس حقیقت کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔مولانا نے اپنے خطاب میں سوراج اور ہندو مسلم اتحاد کے حوالے مولانا ابوالکلام آزاد اورسرسید احمد خان کے تاریخی اقوال کا بھی ذکر کیا اورملک کی سلامتی اور اس کی تعمیر وترقی کے لئے دعا کی۔
پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پرامیر محترم مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کے ہاتھوں پرچم کشائی کے بعد راشٹریہ گان ’جن گن من‘ او’ر قومی ترانہ سارے جہاں سے اچھا‘گایا گیا اور حاضرین کے مابین شیرینی تقسیم کی گئی۔ اس تقریب میں المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ کے اساتذہ وطلبا، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران وکارکنان اور وابستگان کے علاوہ قرب وجوار کی متعدد اہم شخصیات موجود تھیں، ان میں مولانا عبدالاحد مدنی،مولانا عبدالغنی مدنی،ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی،ایاز تقی،ڈاکٹر عبدالواسع تیمی،مولانا محمد رئیس فیضی،شمس الدین ،رحمت کلیم ،محمد ریاض،مولانا امجد ریاضی،حافظ احتشام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

 214 total views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے