مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی
امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
مملکتِ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت کا شرف عطا فرمایا ہے؛ یہی نسبت اسے عالمِ اسلام میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ سعودی عرب کی دینی و فکری شناخت کتاب و سنت سے وابستگی اور اسی بنیاد پر اپنے تعلیمی، دعوتی اور معاشرتی نظام کی تشکیل سے عبارت ہے۔ عصرِ حاضر میں جب فکری انتشار، انتہا پسندی، غلو، تشدد اور مختلف نوع کے فکری انحرافات نے عالمی سطح پر انسانی معاشروں کو متاثر کیا ہے، ایسے میں اعتدال، وسطیت، رواداری، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں مملکتِ سعودی عرب نے فکری و اعتقادی انحرافات کے سدباب اور اعتدال و وسطیت کے فروغ کو اپنی علمی، تعلیمی اور دعوتی ترجیحات میں نمایاں جگہ دی ہے۔
سعودی عرب کی اس کاوش کو صرف کسی ایک ادارے یا کسی ایک میدان تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا؛ بلکہ اس کے مختلف پہلو تعلیم و تربیت، جامعات و مدارس، ائمہ و خطباء کی علمی رہنمائی، فتویٰ، دعوت و ارشاد، علمی تحقیق، فکری مکالمے اور بین الاقوامی علمی روابط تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جامعات کے علمی ماحول میں کتاب و سنت کے ساتھ ربط، علمی منہج، تحقیق و استدلال اور اعتدالِ فکر کو اہمیت دی جاتی ہے، جب کہ مختلف علمی و دعوتی پروگراموں کے ذریعے غلو اور افراط و تفریط سے اجتناب، اختلاف کے آداب اور معاشرتی امن و استحکام کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے۔
اعتدال اور وسطیت محض ایک خوش نما اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن طرزِ فکر ہے جو افراط و تفریط کے دونوں کناروں سے دامن بچاتے ہوئے حق، حکمت، عدل اور توازن کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سعودی عرب کی علمی و دعوتی سرگرمیوں میں اسی مفہوم کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دین کو غلو، تشدد اور بے اعتدالی سے پاک رکھتے ہوئے اس کی صحیح اور متوازن تعلیمات کو علمی بنیادوں پر عام کیا جائے۔ اس کا مقصد محض شدت پسندانہ رجحانات کی تردید نہیں، بلکہ ایسی علمی و عملی فضا کی تشکیل بھی ہے جس میں نوجوان نسل مضبوط علمی بنیاد، متوازن فکر، وسعتِ نظر اور اختلافِ رائے کے آداب کے ساتھ اپنی دینی و معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھ سکے۔
اس سلسلے میں سعودی جامعات کا کردار بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے طلبہ ان جامعات کا رخ کرتے ہیں، وہاں مختلف علوم و فنون اور دینی علوم سے استفادہ کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے ممالک کو واپس لوٹ کر تدریس، تحقیق، دعوت، خطابت، تصنیف و تالیف اور دیگر علمی میدانوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یوں جامعات کا علمی اثر ان کی عمارتوں اور کیمپس تک محدود نہیں رہتا بلکہ فارغین کے ذریعے مختلف خطوں اور معاشروں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی جامعات کو محض تعلیمی مراکز کے بجائے ایک وسیع تر علمی و فکری سلسلے کے اہم مراکز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے عالمی سطح پر منعقد ہونے والی علمی کانفرنسیں، سیمینار، مذاکرے اور فکری نشستیں بھی اس موضوع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان اجتماعات میں مختلف ممالک کے اہلِ علم و دنش اور ارباب فکر و فہم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے فکری انحرافات کے اسباب، ان کے سدباب کے طریقوں، اعتدال و وسطیت کے اصولوں اور معاصر معاشروں کو درپیش فکری چیلنجز پر علمی گفتگو کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس طرح علمی اختلاف کو مکالمے میں، فکری تنوع کو باہمی استفادے میں اور مختلف تجربات کو مشترکہ علمی سرمایہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہی وسیع تر پس منظر اس عالمی کانفرنس کی اہمیت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے، جس کا انعقاد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے زیر اہتمام مدینہ منورہ کے گورنر صاحب السمو الملکی شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعودحفظہ اللہ کے زیر سرپرستی بعنوان ’’فکری انحراف کے سدباب میں سعودی عرب کی کاوشیں‘‘ 27 اور 28 ستمبر 2026ء، بمطابق 16 اور 17 ربیع الثانی 1448ھ، ’’مرکز الملک سلمان الدولی للمؤتمرات‘‘ میں ہوا۔
کانفرنس کا موضوع اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم، منفرد اور عصرِ حاضر کی ایک بڑی فکری ضرورت سے ہم آہنگ تھا۔ چنانچہ جب مادرِ علمی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی جانب سے اس عالمی علمی اجتماع میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو دل میں اس کانفرنس میں شرکت کا ایک خاص اشتیاق پیدا ہوا۔ اسی جذبے کے تحت بڑی عرق ریزی، محنت اور انہماک کے ساتھ ’’سعودی عرب کی جامعات کے ہندوستانی فارغین کی فکری انحراف کے سدباب میں کوششیں‘‘ کے عنوان سے تقریباً بائیس صفحات پر مشتمل مقالہ تیار کیا، جس میں ہندوستان میں سعودی جامعات کے فضلا کی علمی، دعوتی، تعلیمی اور فکری خدمات اور فکری انحرافات کے انسداد میں ان کے کردار کا جائزہ پیش کیا گیا۔
سفر کا وقت قریب آیا تو شہرِ رسول ﷺ، مدینہ منورہ کی جانب روانگی کا شرف حاصل ہوا۔ دل میں کانفرنس سے متعلق بہت سی توقعات اور علمی نشستوں کی ایک حسین تصویر تھی؛ لیکن جب اس بابرکت شہر میں پہنچ کر کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا تو یہ علمی اجتماع توقعات سے بھی کہیں بڑھ کر کامیاب، بامقصد اور یادگار ثابت ہوا۔ عالمِ اسلام کی نامور علمی شخصیات، جلیل القدر علما، ممتاز محققین، مفکرین اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے اہلِ علم کی شرکت نے کانفرنس کو ایک غیر معمولی علمی وقار عطا کردیا تھا۔ مختلف نشستوں میں فکری انحراف کے اسباب، اس کے سدباب کے طریقوں، وسطیت و اعتدال کے فروغ، صحیح عقیدے، فتویٰ، تربیت اور سعودی عرب کے علمی و عملی تجربات پر نہایت سنجیدہ، جامع اور بصیرت افروز گفتگو ہوئی۔
اس علمی سفر کی ایک خوش گوار اور ناقابلِ فراموش یاد مختلف جلیل القدر علمائے کرام سے ملاقات اور متعدد علمی و فکری امور پر تبادلۂ خیال کا شرف بھی رہا۔ بالخصوص حرمین شریفین کے مذہبی امور کے سربراہ، معالی الشیخ ا.د. عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس حفظہ اللہ سے ملاقات باعثِ سعادت رہی، جبکہ مسجد نبوی ﷺ کے امام، فضیلۃ الشیخ ا.د. محمد بن احمد برہجی حفظہ اللہ سے ملاقات بھی اس سفر کے ان خوش نصیب لمحات میں شامل رہی جن کی یاد دیر تک دل کو سرشار رکھتی ہے۔ ان جلیل القدر شخصیات اور دیگر اہلِ علم سے ملاقاتوں اور علمی تبادلۂ خیال نے اس کانفرنس کے علمی و روحانی اثرات کو مزید گہرا کردیا۔
دو روزہ اس عالمی کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک سے جید علمائے کرام، مفتیانِ عظام، مفکرین، دانش وروں، عالمی اسلامی تنظیموں کے سربراہان اور مختلف علمی و فکری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
کانفرنس کے شرکاء نے اپنے وقیع علمی مقالات کے ذریعے فکری انحراف کی مختلف صورتوں، اس کے اسباب و محرکات اور اس کے سدباب کے ممکنہ طریقوں پر روشنی ڈالی، نیز اعتدال و وسطیت کے فروغ میں سعودی عرب کی جامعات، علمی اداروں اور دیگر متعلقہ مراکز کی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔کانفرنس کے مختلف مقالہ نگاروں نے اس پہلو کو بھی نمایاں کیا کہ سعودی جامعات سے فیض یاب ہونے والے طلبہ نے دنیا کے مختلف ممالک میں علمی، دعوتی اور تعلیمی میدانوں میں اپنی خدمات کے ذریعے اپنے اساتذہ اور جامعات سے حاصل کیے ہوئے علمی منہج کو آگے منتقل کیا۔ یہ اثر صرف افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ممالک میں قائم مدارس، جامعات، علمی مراکز، دعوتی اداروں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اس کے نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس عالمی کانفرنس میں مجموعی طور پر 56 وقیع علمی و تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اور کانفرنس کی کارروائی نو علمی نشستوں میں مکمل ہوئی۔ ان نشستوں میں عالمِ اسلام اور دنیا کے مختلف خطوں سے تشریف لانے والے اہلِ علم و فضل نے اپنے گراں قدر مقالات پیش کیے اور موضوع کے مختلف پہلوؤں کو علمی، تحقیقی، تاریخی اور فکری زاویوں سے زیرِ بحث لایا۔کانفرنس کی یہی وسعتِ موضوع، تنوعِ مشارکین اور مقالات کی علمی نوعیت اسے محض ایک رسمی اجتماع کے بجائے ایک سنجیدہ علمی و فکری کاوش بناتی ہے۔ اس میں ایک طرف سعودی عرب کی جانب سے فکری انحراف کے سدباب کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا گیا، تو دوسری طرف عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز، ان کے اسباب اور ان سے نمٹنے کے علمی و عملی طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
زیرِ نظر سطور میں اس دو روزہ عالمی کانفرنس کی علمی کارروائی، مختلف نشستوں کے موضوعات اور مقالہ نگاروں کی گفتگو کا مختصر مگر جامع جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ قارئینِ کرام اس اہم علمی اجتماع کی معنویت، اس کے موضوعات کی وسعت اور اس میں پیش کیے جانے والے علمی مباحث کی نوعیت سے واقف ہوسکیں:
پہلا روز: عقیدہ، فتویٰ اور فکری انحراف کے انسداد پر گفتگو
کانفرنس کے پہلے روز علمی نشستوں میں فکری انحراف کے اسباب و اثرات، صحیح عقیدے کی فکری و تربیتی اہمیت، فتویٰ کی ذمہ داری، اقدار کے تحفظ، فکری شعور کی تشکیل، نوجوان نسل کی فکری حفاظت اور فکری انحراف کے انسداد میں سعودی عرب کے تجربے سمیت دیگر اہم موضوعات پر ممتاز علمی و فکری شخصیات نے پینل مباحثوں میں اظہارِ خیال کیا اور ان کے مختلف پہلوؤں کو تفصیل، بصیرت اور علمی استدلال کے ساتھ اجاگر کیا۔
کانفرنس کی علمی نشستوں کا باقاعدہ آغاز ’’فکری شعور کے فروغ میں صحیح عقیدے کا اثر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تمہیدی نشست سے ہوا، جس کی صدارت معروف عالم دین ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحيلي، امام و خطیب مسجد قباء نے کی۔انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس کا بنیادی پیغام اعتدال و وسطیت کا فروغ ہے، جو مملکتِ سعودی عرب کی علمی و دعوتی کاوشوں کا ہمیشہ سے نمایاں محور رہا ہے۔ کانفرنس کا عنوان انہی مساعی کا آئینہ دار اور انہیں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے، جس پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ لائقِ صد
مبارک باد ہے۔

اس تمہیدی نشست میں اس امر پر زور دیا گیا کہ صحیح عقیدہ محض نظری اعتقاد کا نام نہیں، بلکہ وہ فکری بصیرت، متوازن شخصیت اور درست طرزِ عمل کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی کے ذریعے فرد کو فکری لغزشوں اور گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط داخلی حصار میسر آتا ہے۔
تمہیدی نشست کے پینلسٹ جامعہ امام شافعی، انڈونیشیا کے مدیر اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل، ڈاکٹر علی مصری سیمجان نے فکری انحرافات کے انسداد میں ایمانی تربیت اور تنقیدی فکر کی نشوونما کی اہمیت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
ابوبکر صدیق اسلامک سنٹر، ریاست میشی گن، امریکہ کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمن محمد العمیسان نے فکری انحراف کے اسباب اور اس کے نتیجے میں اسلام کی شبیہ پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے اعتدال، وسطیت اور میانہ روی کے فروغ میں سعودی عرب کی کاوشوں کو سراہا اور شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کو مملکت کے نمایاں اہداف میں شمار کیا۔
ڈاکٹر محمد بن احمد لوح، چیئرمین افتاء کمیٹی، افریقہ علماء یونین اور صدر جامعہ افریقہ المعاصرہ، سینیگال نے صحیح عقیدے کو فطرت کی درستگی اور فکری شعور کی تعمیر کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ عقیدہ انسان کے رویے اور عملی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ڈاکٹرعمر بن مصلح الحسینی، ممبر آف ٹرسٹیز، مجمعِ خادمِ حرمین شریفین برائے حدیث شریف نے سنتِ نبوی سے وابستگی کو نئی نسل کو فکری انحرافات سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور کتاب و سنت کی خدمت میں مملکتِ سعودی عرب کی کاوشوں کو اجاگر کیا۔
تمہیدی نشست کا اختتام جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل اور جامعہ اعمار جمہوریہ گنی کے مدیر ڈاکٹر محمد بن عبداللہ باہ کے پرزور خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے صحیح عقیدے کے ذریعے متوازن شخصیت کی تشکیل اور فرد و معاشرے کو فکری انحراف سے محفوظ رکھنے کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
پہلی نشست بعنوان: فتویٰ؛ فکری رہنمائی اور معاشرتی تحفظ کا ذریعہ
پہلی باقاعدہ مذاکرہ نشست ’’فکری انحرافات کے سدباب میں فتویٰ کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت معالی الشیخ ڈاکٹر فہد بن سعد الماجد، سیکریٹری جنرل سپریم علماء کونسل اور دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتا کی کمیٹیٔ فتویٰ کےسربراہ نے کی۔
شرکائے نشست نے واضح کیا کہ ذمہ دار اور مستند فتویٰ معاشرے کو فکری انتشار سے بچانے، دینی مفاہیم کی درست تفہیم پیدا کرنے اور عوام کو غیر مستند افکار و آرا سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سماحۃ الشیخ احمد المرابط الشنقیطی، مفتیٔ عام جمہوریہ اسلامی موریتانیہ نے فکری انحرافات کے مقابلے میں فرد اور معاشرے کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی اور باہمی تعاون، فرد کی فکری حفاظت اور صحیح سوچ کی نشوونما کو ضروری قرار دیا۔
مولانا محمد تقی عثمانی نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کے نظامِ افتا اور اس کے منہج کا جائزہ پیش کیا، جو کتاب و سنت کی بنیاد پر قائم ہے اور دینی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ عصری پیش آمدہ مسائل سے ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
شاہی دیوان کے مشیر اور سپریم علماء کونسل کے رکن معالی الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمیدنے فتویٰ میں علمی ضبط و احتیاط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے غیر اہل افراد کے فتویٰ دینے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے علمی اہلیت، حالات و واقعات کی صحیح تفہیم اور نئے مسائل میں تحقیق و تثبت کو ناگزیر قرار دیا۔
سماحۃ الشیخ ڈاکٹر عزیز حنافتیش، مفتیٔ عام جمہوریہ کروشیا نے فکری وسطیت کے فروغ اور نصوص کے صحیح فہم میں فتویٰ کے کردار کو اجاگر کیا اور علم اور اہلِ علم کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔
سماحۃ الشیخ نعیم ترفانا، مفتیٔ عام و صدر المشیخۃ الاسلامیہ، جمہوریہ کوسوو نے شاذ فتووں اور بغیر تحقیق و تصدیق کے خبروں کو جلدی میں نقل کرنے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو انتہاپسندانہ فکر سے محفوظ رکھنے کے لیے صحیح عقیدے کی مضبوطی کو بنیادی ضرورت قرار دیا۔
اختتامی مداخلت میں معالی الشیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشثری حفظہ اللہ نے عالمِ اسلام کے علما اور مفتیان کے درمیان روابط کو مزید وسیع کرنے، فتویٰ کے عملی اثرات پر تحقیقی مطالعات انجام دینے اور مختلف معاشروں سے مؤثر انداز میں خطاب کے بہترین طریقوں کی تلاش پر زور دیا۔
دوسری نشست بعنوان: فکری شعور اور اقدار کا تحفظ
دوسری نشست ’’فکری شعور اور اقدار کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت معالی الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبداللہ السند، صدرِ عام ہیئۃ الأمر بالمعروف والنہی عن المنکر نے کی۔
سپریم علماء کونسل کے رکن فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبدالالہ بن محمد بن احمد الملا،نے فکری شعور کے ذریعے وسطیت کے فروغ اور انتہاپسندی سے بچاؤ کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے نصوص کے صحیح فہم، معلومات کی تحقیق و تصدیق اور تعمیری مکالمے کو فکری سلامتی کے اہم ستون قرار دیا۔
وزیرِ اسلامی امور و اوقاف، جمہوریہ مالدیپ اور جامعہ اسلامیہ کے فاضل عزت مآب ڈاکٹر محمد شہیم علی سعید، نے علم، تربیت اور معاشرتی ذمہ داری کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور اقدار کے تحفظ کے موضوع پر گفتگو کی اور اپنے ملک میں اسلامی یونیورسٹی کے فضلا کی خدمات کا ذکر کیا۔
سماحۃ الشیخ بویار ساباہیو، مفتیٔ عام و صدر المشیخۃ الاسلامیہ، جمہوریہ البانیہ نے خاندان، دینی اداروں اور تعلیمی مراکز کے ذریعے فکری شعور کی تعمیر میں اپنے ملک کے تجربے کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بچپن ہی سے صحیح علم اور تعمیری مکالمے کی تربیت کو نہایت اہم قرار دیا۔
عزت مآب ڈاکٹر محمد نعیم بن مختار، سابق وزیرِ مذہبی امور، ملائیشیا نے کم عمری ہی سے صحیح عقیدے اور شرعی علوم کی تعلیم اور انہیں روزمرہ زندگی سے مربوط کرنے کو فکری تحفظ اور انتہاپسندی سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبداللہ العریفی، ڈائریکٹر جنرل برائے فکری شعور، وزارتِ تعلیم سعودی عرب نے وزارتِ تعلیم کے اس تجربے کا جائزہ پیش کیا جس کے ذریعے فکری انحرافات کی پیشگی روک تھام، اقدار و قومی شناخت کے استحکام اور طلبہ میں تعمیری افکار و منضبط مواد کے حوالے سے شعور بیدار کیا جاتا ہے۔
تیسری نشست بعنوان: سعودی تجربہ؛ وسطیت کے فروغ کی ایک جامع جہت
پہلے روز کی آخری نشست ’’وسطیت کے فروغ اور فکری انحرافات کے انسداد میں سعودی تجربہ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت معالی الشیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشثری نے کی۔ انہوں نے فکری انحرافات کے علاج اور ان سے نمٹنے کے مؤثر طریقوں کے مطالعے میں مملکتِ سعودی عرب کی مختلف کاوشوں پر روشنی ڈالی۔
فضیلۃ الشیخ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، صدر مجلس علماء، پاکستان نے وسطیت کے فروغ اور انتہاپسندی کے مقابلے میں سعودی عرب کی کوششوں کا جائزہ لیتے ہوئے مرکز اعتدال کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا میں انتہاپسندانہ افکار کے مقابلے کی کاوشوں کو نمایاں کیا۔
انڈونیشیا کی عوامی مشاورتی کونسل کے نائب سربراہ اور رکن مجلس اعلیٰ رابطہ عالم اسلامی معالی ڈاکٹر محمد ہدایت نور وحید، نے علمی کانفرنسوں کے نتائج اور سفارشات کو مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دنیا کے مختلف معاشروں تک ان سے فائدہ پہنچ سکے اور فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششیں مزید مؤثر ہوسکیں۔
سماحۃ الشیخ سندایغایا موسیٰ، مفتیٔ جمہوریہ روانڈا و صدر مجلس اعلیٰ برائے اسلامی امور نے فکری انحراف کے مقابلے کے لیے دینی، تعلیمی، ابلاغی اور تکنیکی کوششوں کے باہمی امتزاج اور بین الاقوامی تعاون کو ضروری قرار دیا۔
ڈاکٹر ابوبکر محمد ثانی،پروفیسر، وفاقی یونیورسٹی دوتسی، نائیجیریا نے وسطیت و اعتدال کے پروگراموں کے اثرات کو علم اور رویے دونوں سطحوں پر جانچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل تبدیلیوں کے ساتھ معلومات کی تحقیق و تصدیق کی مہارتوں کو بھی مزید ترقی دینے کی ضرورت اجاگر کی۔
ڈاکٹر عبدالمجید بن ابراہیم العوفی، ڈین شعبۂ عقیدہ، کلیۃ العقیدہ والدعوۃ، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ نے کتاب و سنت سے مضبوط وابستگی اور غلو و تشدد کے انسداد پر مبنی سعودی منہج کا جائزہ پیش کیا اور نوجوان نسل کو انتہاپسندانہ افکار سے محفوظ رکھنے کے لیے فکری تحصین کی ضرورت پر زور دیا۔
علمی اجتماع، 56 تحقیقی مقالات اور نو مذاکرہ نشستیں
کانفرنس کے پہلے روز کی ہر نشست کے اختتام پر متعلقہ نشست کے صدور نے پینلسٹ علمائے کرام، مفکرین عظام، باوقار مقررین اورمشارکین حضرات کو ان کی علمی شرکت اور گراں قدر کاوشوں کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا۔
یہ بین الاقوامی علمی اجتماع مجموعی طور پر 56 ٹھوس تحقیقی مقالات اور 9 مذاکراتی نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں مختلف ممالک سے علما، محققین اور ماہرین شریک ہیں۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد عصرِ حاضر میں فکری انحرافات کے اسباب و اثرات کا علمی جائزہ لینا، ان کے انسداد کے مؤثر طریقوں پر غور کرنا اور مختلف ممالک کے تجربات و مشاہدات کو ایک دوسرے کے سامنے لانا ہے۔
مدینہ منورہ کے مرکز الملک سلمان الدولی للمؤتمرات میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 27 اور 28 ستمبر 2026ء، بمطابق 16 اور 17 ربیع الثانی 1448ھ کو جاری رہی، جہاں مختلف علمی و فکری زاویوں سے ایک ہی بنیادی مقصد پر گفتگو ہوئی: فکر کو انحراف سے بچایا جائے، علم کو بصیرت سے جوڑا جائے اور وسطیت و اعتدال کو فرد اور معاشرے کی فکری شناخت کا حصہ بنایا جائے۔
دوسرے روز فکری انحراف کے اسباب و تدارک
ادارہ جاتی و بین الاقوامی تعاون اور سعودی جامعات کے فضلا کے کردار پر جامع گفتگو
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے زیر اہتمام ’’فکری انحرافات کے انسداد میں مملکتِ سعودی عرب کی کاوشوں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روز علمی و فکری نشستوں کا سلسلہ اپنے بھرپور علمی وقار کے ساتھ جاری رہا۔ دوسرے روز کی نشستوں میں فکری انحراف کے اسباب و اثرات اور اس کے سدباب کے طریقوں، ادارہ جاتی، امنی اور بین الاقوامی تعاون، سعودی جامعات سے فارغ التحصیل علما و دانش وروں کی جانب سے اعتدال و وسطیت کے فروغ، نیز فکری انحراف سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی کی تشکیل اور سعودی تجربے سے استفادے جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
چوتھی نشست بعنوان: فکری انحراف: اسباب، اثرات اور علاج
چوتھی علمی نشست ’’فکری انحراف: اسباب، اثرات اور تدارک کے طریقے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت عزت مآب ڈاکٹر یوسف بن محمد بن سعید، رکن سپریم علماء کونسل نے کی۔ انہوں نے فکری انحراف کے مختلف اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے نصوصِ شرعیہ کی غلط فہمی کو اس کا ایک بنیادی سبب قرار دیا، بالخصوص ولاء و براء جیسے حساس مسائل میں افراط و تفریط سے خبردار کیا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد بن احمد برہجی، امام مسجد نبوی نے فکری انحراف کے علاج میں قرآن کریم کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے آیاتِ قرآنی میں تدبر اور سلفِ صالحین کے فہم کے مطابق ان کی صحیح تفہیم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متشابہات کے پیچھے پڑنے اور محکمات کو نظر انداز کرنے سے خبردار کیا۔
عزت مآب ڈاکٹر مولود حسین دودیتش، مفتیٔ عام و صدر المشیخۃ الاسلامیہ، جمہوریہ سربیا نے فکری انحراف کے سدباب کے لیے پیش بندی، علم و بصیرت کے فروغ، حکمت و نرمی کے ساتھ مکالمے اور اجتماعی شعور کی تعمیر کو اہم قرار دیا۔
اس نشست میں فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ابو الخیر سانوؤک تراسون، سربراہ اعلیٰ علماء کونسل، باسیلان، فلپائن نے مفاہیم کے اضطراب اور فکری انتشار کے خطرات پر گفتگو کرتے ہوئے عقیدے کی مضبوطی، شبہات کے ازالے اور راسخ فی العلم علما کی طرف رجوع کی ضرورت اجاگر کی۔
ڈاکٹر آکیفومی نومورا، پروفیسر، جامعہ تاکوشوکو، جاپان نے مسلم اقلیتوں کے لیے ایسا علمی و تربیتی منہج اختیار کرنے پر زور دیا جو نوجوان نسل کے شعور کو بلند کرنے، اس کی دینی شناخت کی حفاظت اور اسے فکری چیلنجز سے محفوظ رکھنے میں معاون ہو۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام بن سالم السحیمی، پروفیسر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ و مدرس مسجد نبوی نے فکری انحرافات کے مقابلے میں مملکتِ سعودی عرب کے تجربے کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے انسداد اور فکری امن کے فروغ کے لیے مملکت کی شرعی، عدالتی، علمی اور ابلاغی کوششوں کو اجاگر کیا۔
پانچویں نشست بعنوان: ادارہ جاتی، امنی اور بین الاقوامی تعاون
پانچویں نشست ’’فکری انحرافات کے مقابلے میں ادارہ جاتی، امنی اور بین الاقوامی تکامل‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت مرکزِ تحفظِ فکر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سیکریٹری میجر جنرل رکن عبداللہ بن ہادی الہاجری نے کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فکری انحراف کا مقابلہ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ قانون و تشریع، امنی اداروں، تعلیمی مراکز، تحقیقی و فکری اداروں اور علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے باہمی اشتراک سے ہی مؤثر انداز میں ممکن ہے۔
ڈاکٹر فرحان احمد نظامی، بانی و ڈائریکٹر مرکز آکسفورڈ برائے اسلامی مطالعات، برطانیہ نے معتبر علم اور گمراہ کن معلومات کے درمیان امتیاز کی ضرورت پر گفتگو کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے چیلنجز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسلامی علم و معرفت کو مختلف معاشروں تک ان کی زبان، مزاج اور فکری سطح کے مطابق مؤثر انداز میں پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلامی عسکری اتحاد برائے انسدادِ دہشت گردی کے فکری امور کے ڈائریکٹرڈاکٹر منصور بن سعید القرنی نے رکن ممالک کے درمیان فکری، ابلاغی اور عسکری شعبوں میں تعاون، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کے لیے اتحاد کی کوششوں کا جائزہ پیش کیا۔
کرنل ترکی بن مقبل الحربی،سرکاری ترجمان، ریاستی سلامتی ادارۂ سعودی عرب نے دہشت گردی کے انسداد میں مملکت کے جامع منہج پر روشنی ڈالتے ہوئے قانون سازی، فکری محرکات کا تدارک، اصلاح و بحالی کے پروگرام، بعد از بحالی نگہداشت اور بین الاقوامی تعاون کو اس حکمت عملی کے اہم اجزا قرار دیا۔ انہوں نے امنی و فکری کارروائی میں انسانی پہلو کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
ڈاکٹر سلطان بن فالح الاصقہ، سربراہ مرکز الفرقدین للدراسات والنشر والانتاج الاعلامی، کویت نے فکری انحرافات کی اصلاح اور وسطیت و اعتدال کے فروغ میں سعودی عرب کی تاریخی کاوشوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کوششیں وقت کے ساتھ انفرادی اقدامات سے ترقی کرکے منظم ادارہ جاتی عمل کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
جبکہ فضیلۃ الشیخ حسن ساری محمد، ڈائریکٹر اسلامی مرکز کوپن ہیگن، ڈنمارک نے ڈنمارک میں چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنی دعوتی و اسلامی خدمات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم، شرعی معرفت کے فروغ اور داعیان و مرشدین کی تربیت میں اسلامی مراکز و مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے یورپ میں مسلم اداروں کی خدمت کے حوالے سے مملکتِ سعودی عرب کی معاونت کا بھی ذکر کیا۔
چھٹی نشست بعنوانـ: ذہنی صحت اور فکری انحراف سے تحفظ
چھٹی نشست ’’ذہنی صحت: داخلی قوتِ مدافعت اور فکری انحراف سے پیشگی حفاظت‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈاکٹر احمد بن سعد الاحمد نے کی۔انہوں نے، جو اسلامک یونیورسٹی انٹرنیشنل اسلام آباد کے صدر ہیں، گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے واضح کیا کہ ذہنی صحت بچپن اور نوجوانی ہی سے انسان کی فکر، شخصیت اور اپنے بارے میں اس کے تصور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سماحۃ الشیخ یشار شریف داماد اوغلو، مفتیٔ قوموتینی، یونان نے تعلیم اور باہمی بقائے باہمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی اصلاح کے لیے مسلمانوں اور ان کے دین کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مقدم ڈاکٹر مہند بن سعود الطیار، ترجمانِ سرکاری مباحثِ عامہ نے نفسیاتی محرکات اور ذہنی کمزوری کے فکری انحراف پر اثرات کو واضح کیا اور شعور و صحیح فکر کے ذریعے نفسیاتی حصار مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر ابراہیم جالو، سابق سفیرِ سیرالیون برائے سعودی عرب نے متوازن شخصیت کی تشکیل میں ذہنی صحت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وسطیت و اعتدال کے فروغ اور فکری انحراف سے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا ذکر کیا۔
شیخ سعید حسن ابراہیم، مرکز الاعتصام بالسنۃ و مسجد دارالحدیث، لندن کے نگران نے فکری انحراف کے انسداد اور وسطیت و اعتدال کے فروغ میں مملکتِ سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا اور انہیں معاشرتی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔
ڈاکٹر بندر بن عبداللہ الشریف، شعبۂ نفسیاتِ تربیتی کے استاد، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ نے خاندان، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے باہمی تعاون کو فکری انحراف سے بچاؤ کے لیے ناگزیر قرار دیا، جبکہ تربیتی اور نفسیاتی معاونت کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
ساتویں نشست بعنوان: سعودی جامعات کے فضلا اور وسطیت و اعتدال کا فروغ

ساتویں نشست ’’وسطیت و اعتدال کے فروغ میں سعودی جامعات کے فضلا کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس کی صدارت ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز بن حمید، ڈائریکٹر وحدتِ توعیتِ فکریہ، جنرل سیکریٹریٹ مجلس شؤون الجامعات نے کی۔
نشست میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ سعودی جامعات کا کردار محض طلبہ کو علمی تعلیم فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کے فارغ التحصیل افراد مختلف معاشروں میں علم، فکر اور اعتدال کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی جامعات کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہیں۔
عزت مآب براہیم ماتولا، سابق وزیرِ توانائی، جمہوریہ ملاوی نے علم کو معاشرے کے تئیں ذمہ داری اور امانت قرار دیتے ہوئے اسلامی یونیورسٹی سے اپنے علمی و فکری تعلق اور اپنی قومی زندگی پر اس کے اثرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علمی تربیت نے ان کی عملی زندگی اور مختلف سرکاری مناصب کی ذمہ داریوں میں بھی رہنمائی فراہم کی اور انہیں وسطیت و اعتدال کے منہج کی دعوت دینے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر راشد یحییٰ سیمودو، سفیر و خصوصی نمائندہ صدرِ جمہوریہ یوگنڈا نے کہا کہ یونیورسٹی کا اثر سندِ فراغت کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ خریج اپنے علم، اقدار اور طرزِ فکر کے ذریعے اپنے معاشرے میں اس اثر کو آگے منتقل کرتا ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے فکری حالات سے آگاہی کے لیے جامعات، علما اور علمی اداروں سے مسلسل تعلق برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر ضمیر محی الدین، نائب اول رئیس الادارۃ الدینیۃ لمسلمی روسیۃ الاتحادیۃ و رئیس معہد موسکو الاسلامی نے روس میں سعودی جامعات کے فضلا کی جانب سے وسطیت و اعتدال کے فروغ، غلط تصورات کی اصلاح، انتہا پسندانہ فکر کے مقابلے اور شرعی علوم کو مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کی خدمات کا ذکر کیا۔
ڈاکٹر ولید بن عبداللہ العثمان، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز، انڈونیشیا نے فکری شبہات کے ازالے کے لیے مکالمے کو مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے دلیل و برہان سے گفتگو، علمی تیاری، تنقیدی و تجزیاتی صلاحیت اور مخالف فکری مناہج سے واقفیت کی
ضرورت پر زور دیا۔
style=”text-align: right;”>
اسی نشست میں راقمِ سطور، اصغر علی امام مہدی سلفی، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ اپنی گفتگو میں میں نے وطنِ عزیز ہندوستان میں سعودی جامعات کے فضلا کی علمی و اصلاحی خدمات پر مختصر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سعودی جامعات سے فارغ التحصیل افراد نے ملک کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا، وسطیت و اعتدال کو فروغ دیا، تخریبی افکار کا مقابلہ کیا اور فکری بیداری کے میدان میں علمی و تصنیفی خدمات انجام دیں۔
میں نے اپنے مقالے میں اس کی ایک ادنیٰ سی جھلک پیش کرتے ہوئے بتایا کہ راقمِ سطور، جسے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں طالبِ علمی کا شرف حاصل ہوا، انہی علمی و اصلاحی مساعی کے اعتراف میں مہاراشٹر کے سابق وزیرِ اعلیٰ کے ہاتھوں امن ایوارڈ سے سرفراز ہوچکا ہے۔ مزید یہ کہ 2001ء میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اب تک جمعیت کی جانب سے آٹھ بڑی کانفرنسوں کے علاوہ متعدد سیمپوزیم، علمی ندوات اور سیکڑوںجلسے منعقد کیے جاچکے ہیں۔ متعدد کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں، جبکہ مختلف زبانوں میں علمائے حدیث اور سعودی عرب کے کبار علما کے دہشت گردی مخالف فتاویٰ کو جمع کرکے شائع کیا گیا، جن کی رونمائی دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور دیگر سیاسی و مذہبی قائدین کے ہاتھوں عمل میں آئی۔
اسی سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’’دہشت گردی ایک ناسور‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا، جبکہ اہل حدیث کمپلیکس، ابوالفضل انکلیو میں ’’مدارسِ اسلامیہ خدمتِ انسانیت کے قلعے ہیں، دہشت گردی کے اڈے نہیں‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد ہوا، جس میں وطنِ عزیز کے سابق وزیرِ داخلہ نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسران، مفکرین، بلاتفریقِ مذہب و مسلک مذہبی رہنماؤں اور دیگر سربرآوردہ شخصیات نے بھی ان پروگراموں میں شرکت کی۔
اسی طرح میں نے اپنے مقالہ میں یہ بھی پیش کیا کہ سعودی جامعات کے فضلائے کرام نے ہندوستان میں وسطیت و اعتدال کے فروغ کے لیے مختلف ذرائع سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے اور سدباب کے لیے بھرپور جدوجہد کی ہے اور ہر اس فکری انحراف کے مقابلے میں، جس سے شر و فساد جنم لیتا ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں مؤثر مساعی کی ہیں؛ خواہ یہ مساعی ان کی تقاریر کے ذریعے ہوں، مساجد کے دروس کے ذریعے، خطباتِ جمعہ کے ذریعے یا دعوت و اصلاح کے دیگر ذرائع سے۔ بالخصوص نئی نسل کی ذہنی و فکری تربیت، ان کے اندر اعتدال و توازن پیدا کرنے اور انہیں فکری گمراہی و انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں سعودی جامعات کے فضلائے کرام نے بھرپور اور قابلِ قدر کوششیں انجام دی ہیں۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر خلفان بن خمیس اسماعیل، صدر مجلس العلماء، جمہوریہ کینیا نے کینیا میں سعودی جامعات کے فضلا کی جانب سے صحیح عقیدہ، وسطیت و اعتدال، تعلیم و دعوت اور فکری شعور کے فروغ میں ادا کیے گئے کردار کو نمایاں کیا اور تجویز پیش کی کہ فضلا کی کوششوں کو منظم کرنے اور فکری انحراف و انتہاپسندی کے مقابلے میں ان کی مشترکہ کاوشوں کو مربوط کرنے کے لیے ایک متحدہ پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔
آٹھویں نشست بعنوان: سعودی تجربے سے استفادہ اور فکری انسداد کی نئی حکمتِ عملیاں
کانفرنس کی آٹھویں اور آخری نشست ’’فکری انحراف کے انسداد کے لیے حکمتِ عملیوں کی ترقی اور سعودی تجربے سے استفادہ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت امام حرم مکی عزت مآب ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے کی۔
انہوں نے اسلام کے بنیادی منہج، جو وسطیت، اعتدال اور حکمت پر قائم ہے، اور انتہا پسند گروہوں کے انفرادی طرزِ عمل کے درمیان واضح فرق رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقدسات پر حملوں کی مسلمانوں کی جانب سے مذمت اور حرمین شریفین کی حفاظت و سلامتی کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر صلاح الدین حسن، وزیرِ مفوض، وزارتِ خارجہ چاڈ نے فکری انحراف کے مقابلے میں سعودی عرب کے بین الاقوامی تجربات کا جائزہ لیتے ہوئے دینی اتاشیوں اور مرکز اعتدال کے ذریعے شعور بیدار کرنے، غلط تصورات کی اصلاح اور وسطیت کے منہج کو فروغ دینے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلامی ممالک میں سعودی تجربے سے مزید استفادے کی ضرورت پر زور دیا۔
style=”text-align: right;”>ڈاکٹر مصطفیٰ خضر دومیز، نمائندہ اتحادِ جامعاتِ عالمی، بلجیم نے سعودی جامعات کے فضلا کی جانب سے فکری امن کے فروغ، تعلیم و دعوت، شرعی اداروں کے قیام اور فکری، اعتقادی، ثقافتی و سلوکی انحرافات کے تدارک میں ان کی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔
عزت مآب کارلوس البرتو روخاس، ڈائریکٹر جمعیۃ الحکمۃ، ریاستہائے متحدہ میکسیکو نے اسلام کی حقیقی تصویر اجاگر کرنے میں صحیح علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وسطیت و اعتدال پر مبنی اسلامی منہج کی وضاحت کی۔ انہوں نے سعودی جامعات اور دنیا بھر کے اسلامی مراکز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور فکری انحراف سے بچاؤ کے لیے سعودی تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فضیلۃ الشیخ ادریس بوکاری لیمانو، صدر الاتحاد الاسلامی، جمہوریہ بینین نے اسلامی یونیورسٹی میں اپنے علمی سفر اور وہاں حاصل ہونے والے علمی و معتدل منہج کے اپنی دعوتی و علمی زندگی پر اثرات بیان کیے، نیز بتایا کہ یہ اثرات ان کے شاگردوں اور معاشرے تک بھی منتقل ہوئے۔
فضیلۃ الشیخ الیاس بولوت، سربراہ مرکز طیبہ، جمہوریہ ترکیہ نے فکری انحرافات کے مقابلے کے لیے پیشگی فکری تحصین کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف ابلاغی پلیٹ فارمز کو شرعی علم کی ترویج اور وسطیت و اعتدال کی اقدار کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت بیان کی اور اسلامی یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے اثرات کو اپنے وطن اور طلبہ تک منتقل کرنے کا ذکر کیا۔

آخری نشست بعنوان: حرمین شریفین پر حملوں کی مذمت
آخری نشست میں شرکا نے مقدساتِ اسلامیہ کو نشانہ بنانے اور مملکتِ سعودی عرب کے خلاف حملوں کی شدید مذمت اور استنکار کیا۔ مقررین نے حرمین شریفین کی مسلمانوں کے دلوں میں عظیم منزلت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی سلامتی اور تحفظ کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور ہر اس اقدام کو مسترد کیا جو حرمین شریفین کے امن و سلامتی کو متاثر کرے۔
علمی و فکری سفر کا باوقار اختتام
دوسرے روز کی یہ نشستیں محض تقاریر اور علمی مباحث تک محدود نہیں رہیں، بلکہ فکری انحراف کے اسباب، اس کے نفسیاتی و معاشرتی پس منظر، علمی و تربیتی علاج، ادارہ جاتی تعاون، بین الاقوامی شراکت داری اور سعودی جامعات کے فضلا کے عالمی کردار کے مختلف پہلوؤں کو ایک وسیع علمی تناظر میں سامنے لاتی رہیں۔
یوں کانفرنس کے دوسرے روز کا علمی سفر فکر کی اصلاح، شعور کی تعمیر اور اعتدال کے فروغ کے متعدد پہلوؤں کو سمیٹتے ہوئے اختتام پذیر ہوا۔ اختتامی مرحلے میں تمام نشستوں کے صدور نے مقررین اور شرکا کو ان کی علمی شرکت، قیمتی تجربات اور پیش کردہ فکری و عملی آرا کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا۔
112 total views

