عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیات کی شرکت۔ اخوت و اعتدال کے پیغام پر زور
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی طرف سے جاری ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے زیرِ اہتمام مرکز ملک سلمان الدولی کے عظیم سیمینار ہال میں 27تا 28ستمبر 20260ء منعقدہوئی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’فکری انحراف کے سدباب میں سعودی کی مساعی” میں شرکت کی اور”فکری انحرافات کے سدباب میں سعودی یونیورسٹیز کے فضلائے کرام کی کاوشیں‘‘ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
اس عظیم دو روزہ علمی اجتماع میں مملکتِ سعودی عرب اور عالمِ اسلام کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں متعدد ائمہ حرمین، سعودی عرب کی مختلف جامعات، مؤسسات اور علمی و تحقیقی اداروں کے ذمہ داران و مدیران شریک ہوئے۔ عالمِ اسلام کے مختلف ممالک سے مفتیانِ کرام، علما اور دینی و علمی شخصیات کی شرکت نے اس اجتماع کی علمی معنویت اور وقار میں مزید اضافہ کیا۔
کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت مدینہ منورہ کے گورنر عزت مآب شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کی بنفسِ نفیس شرکت تھی۔ سمو الامیر نے 28 ستمبر کی شب اپنے شاہانہ و پُرشکوہ قصر میں کانفرنس کے شرکا کے اعزاز میں ایک پرتکلف عشائیے کا بھی اہتمام فرمایا۔ یہ پُروقار میزبانی سعودی عرب کی روایتی مہمان نوازی، اہلِ علم سے تعلق و محبت اور علمی سرگرمیوں کی قدر دانی کا ایک حسین مظہر تھی۔
پریس ریلیز کے مطابق مولانا نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت میرے لیے باعثِ مسرت اور لائقِ صد شکر و امتنان ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی جانب سے منعقدہ اس عالمی کانفرنس میں وطنِ عزیز ہندوستان سے شرکت کا موقع ملا اور میں نے اپنا مقالہ ’’فکری انحراف کے سدباب میں ہندوستان کے اندر سعودی عرب کے فضلائے کرام کی کاوشیں‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ میں نے اپنے مقالے میں وطنِ عزیز ہندوستان میں وسطیت و اعتدال کے فروغ، اخوت و بھائی چارہ اورمودت و محبت کے جذبات کے فروغ، شدت پسندی، دہشت گردی اور فکری انحراف کے سدباب میں ہندوستان میں سعودی عرب کی جامعات کے فضلائے کرام کی علمی، دعوتی اور اصلاحی خدمات کو اجاگر کیا، نیز اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ نوجوانوں کو ایک بہتر انسان، اچھا مسلمان اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے کن فاسد افکار و نظریات سے بچنا چاہیے، معاشرے میں نوجوانوں کا کیا کردار ہوسکتا ہے اور ملکی قوانین کی پاسداری کیوں ضروری ہے؟ اس سلسلے میں ہندوستان میں سعودی جامعات کے فضلائے کرام کی جانب سے مدارس و جامعات، جلسوں، اجتماعات اور فتاویٰ کے ذریعے انجام دی جانے والی خدمات کا ذکر کیا، نیز مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے پلیٹ فارم سے وسطیت و اعتدال، مذہبی و مسلکی رواداری، اخوت و محبت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کی جانے والی مساعی کا بھی تذکرہ کیا کہ اس سلسلے میں متعدد عظیم کانفرنسیں، سیمپوزیم، جلسے اور علمی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں ملک کے سابق وزیر اعظم، وزیرِ داخلہ، متعدد وزراء، مختلف صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وطنِ عزیز کے مختلف مذاہب۔ ادیان کے رہنماؤں اور دھرم گرووں نے شرکت کی، اور ان پروگراموں کے ذریعے اعتدال و وسطیت، مذہبی رواداری اور باہمی اخوت کے فروغ کے لیے مؤثر پیغام عام ہوا اور ان کے خوش گوار اثرات معاشرے میں نمایاں طور پر محسوس کیے گئے۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم نے اس موقع پر عالمِ اسلام کے مختلف ممالک سے تشریف لائے ہوئے علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور اہلِ علم سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا، جس سے یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا مقابلہ علمی بصیرت، اعتدال اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی مؤثر طور پر کیا جاسکتا ہے۔
اس کامیاب اور بامقصد کانفرنس کے انعقاد پر ہم خدام مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ذمہ داران، مملکتِ سعودی عرب کی قیادت و حکومت، منتظمین کانفرنس اور تمام علما و مشائخ کے تہِ دل سے شکر گزار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہمہ جہت اور لامتناہی خدمات کو شرفِ قبول بخشے۔
یقیناً مملکتِ سعودی عرب کی علمی، دینی، دعوتی اور انسانی خدمات عالمِ اسلام کے لیے ایک گراں قدر اور مثالی ہیں۔ مختلف میدانوں میں جاری ان مخلصانہ کوششوں سے امتِ مسلمہ کے بے شمار طبقات مسلسل مستفید ہو رہے ہیں۔ہمارے ملک ہندوستان سے سعودی عرب کے دو طرفہ دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے مختلف میدانوں میں ممد و معاون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان خدمات کو مزید وسعت و دوام عطا فرمائے اور مملکت کے علما و ذمہ داران کو دین و ملت کی مزید خدمت کی توفیق بخشے۔
مولانا نے فرمایا کہ اس سفر کو آسان بنانے اور کانفرنس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے جن احباب ومشائخ اور عزیزوں نے بہتر کردار ادا کیا اور بڑی فکر مندی دکھائی ان میں عزیزم شاہ فہد سنابلی سلمہ اللہ ووفقہ قابل ذکر ہیں۔وہ مدینہ منورہ میں دو روزہ قیام کے دوران بھی سایہ کی طرح ساتھ رہے اور جو مثبت کردار ادا کیا وہ لائق تعریف اور ہمت افزائی ہے۔اللہ ان کو دین و دنیا کی ترقی عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ اس کانفرنس کو فکری اعتدال، علمی بصیرت، باہمی اخوت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے فروغ کا وسیلہ بنائے، اور اس کے انعقاد میں حصہ لینے والے تمام افراد کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر سے نوازے۔
96 total views

